ميرے MBA کا سفر
ميرے ایم بی اے کا سفر
حیدرآباد کا ریلوے اسٹیشن، ساۃ میں موٹے وزنی بیگ ، بہار کے موسم کو ساة لئے، میں اپنے اس ورثے میں ملنے والے شھر کو کچھ مدت کے لیے آلودہ کہنے والا تھا ۔ ٹرین پہ چڑنے سے پہلے دل نے بہت صدائیں لگائی کہ کیوں اپنے اس شھر کو چھوڑ کر ، ایک انجان شھر میں رہنا کا ادارہ کر بیٹھے ہو مگر دوسری طرف میں یہ ارادہ کر بیٹھا تھا کہ اب کچھ کرنا ہے ، کچھ نیا، کچھ بڑا ، نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے لوگوں کے لیے۔ کلی کو ساتھ لیکر ، میں ٹرین پہ چھڑ جاتا ہوں اور اپنے شھر کو آنکھوں آنکھوں میں ہی قید کرنے میں مگن ہو جاتا ہوں ۔ ٹرین سے شاید ہمارا ساتھ رہنا برداشت نہیں ہو پایا اور اس نے مجھے ساتھ لئے حیدرآباد کو خدا حافظ کہہ دیا ۔ گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد ٹرین اپنے منزل مقصود تک پہنچ جاتی ہے ٹرین سے اترنے کے بعد ایسا لگا کہ جیسے میں کئی دن ایک ہی جگہ پہ گزار چکا ہوں ۔ انجان شھر میں انجان لوگوں کو دیکھ حیران ہوا کیونکہ میں اجرک والوں کے شھر کو چوڑ کر سندھی، کشمیریوں ، بلوچیوں ، پٹہانوں اور پنجابیوں کے شھر آیا تھا ۔ اپنے جگری دوست علی سے کال پہ بات ہو جاتی ہے اور میں اس سے ہاسٹل کا اریڈیس حاصل کر لیتا ہوں ۔ روالپنڈی کے سٹیشن سے ٹیکسی میں بیٹھ کر میں اسلام آباد کی حدود میں داخل ہو جاتا ہوں اور گوگل میپ کے سہارے سے آخرکار ہاسٹل تک پہنچ جاتا ہوں ۔ وہاں میرے دوست پہلے ہی سے انتظام کر چکا تھا، اس لئے اکیلے پن نے زیادہ ستایا نہیں ۔ اب انتظار تھا علی اور مجھے کل کا ، کیونکہ کل سے میری زندگی کا نیا صفحہ کھلنا تھا جسکی وجہ سے میں اپنے حیدرآباد کو چھوڑ کر اسلام آباد آپہنچا تھا ۔ صبح ہوتے ہی علی اور میں ، سوٹ شوٹ پہن کر ، اسلامک یونیورسٹی کی طرف روا ہو جاتے ہیں ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد جو کے پاکستان کی ایک عالمی یونیورسٹی ہیں وہاں مجھے اور علی کو ایم بی اے کے پروگرام میں بإذن اللہ ایڈمیشن کا ملنا یقیناً ایک بڑی خوش نصیبی تھی ۔ یونیورسٹی کے اندر پہنچنے کے بعد کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کلاسز کس طرف ہوگی کیونکہ یہ جامعہ پورے ایچ۔8 سیکٹر کو گھیرے ہوئے تھی۔ بہر حال علی کو ساتھ لئے میں اپنی کلاس کو ڈونڈ لیتا ہوں اور 3 کلاسز لینے کے بعد میں اس حسین جامعۃ میں پہرنے لگتا
جامعۃ کو پورا دیکھنے کے بعد یوں محسوس ہوا کہ شاید سندھ میں کبھی بہار نہیں آئی اور جسے ہم سندھ میں بہار سمجھتے ہیں وہ اصل میں سردی کے بعد اگلے موسم کو کہتے ہیں اصل بہار کیا ہے وہ یہاں آکر پتا چلا۔ یقینا یہاں سے جو کچھ بھی سیکھنے کو ملا وہ میرے مولی کے حکم سے سیکھا۔ اس اجنابی شھر میں زندگی کے دوسال مکمل ہونے کو ہیں اور دل کے ساتھ ساتھ قلم بھی یہ بتانا چاہتا ہے کہ مملکت خداداد میں قائم اس دلکش جامعۃ کو انسان کے علاوہ تتلیاں بھی ستاتی ہیں۔ میں تو آج بھی بھی تتلیوں کے پسندیدہ شھر میں اپنی محنت میں مصروف رہتا ہوں لیکن جو مزہ اور سکون جامعتہ سے پایا شاید باقی مقامات اس سے خلی ولی ہو۔ اب میری سوچ اور میرا ارادہ مزید مضبوط ہوگیا اور لا ریب کہ اس جامعتہ کا اس میں بہت اہم کردار رہا ۔ اب ہمارے بیچ کے طالب علموں کی ڈگریاں مکمل ہوگئی ہر کوئی اپنے گاؤں و شھر کی طرف رواں دواں ہو گئے ہیں میرے لئے یقیناً یہ خوشی کی بات ہے کہ میری زندگی کا جو گول تھا میں اس کی سمت میں جا رہا ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پہ قادر ہے، ہم تو صرف دعا کر سکتے ہیں ، باقی وہ رحیم ذات ہے ۔ خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس جامعۃ کو تاقیامت قائم و دائم رکھے ۔ اس میں تعلیم حاصل کرنے والوں سے میرا رب اس امت کے لیے کام لے۔ بہت مشکل وقت ہوتا ھے کہ جو جگہ، اور جس کے لوگ شروع میں آپ کے لئے اجنبی ہو اور پھر آپ کو اس سے اتنا لگاؤ ہو جائے گا کہ اب پھر آپکا دل آلودہ کہنے کی بھی اجازت نہیں دیتا ہو، شاید اب یہ شھر اور اس میں بسنے والے میرے لئے انجان نہیں رہے۔ میرے پیارے ساتھیوں میرا قلم مزید بھی طاقت رکھتا ہے کہ اپنے کچھ پیارے لمحات آپ کے ساتھ شئیر کروں لیکن شاید آپ کا وقت پہلے ہی کافی لے چکا ہوں اس لئے یہاں پہ ہی آپ سے اجازت چاہونگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے ۔
تحرير كننده: افراسياب خان



NOMAN ALI